بنگلورو،28؍مارچ (ایس او نیوز؍یواین آئی ) شہر بنگلور کے تینوں پارلیمانی حلقوں میں کانگریس امیدواروں کی کامیابی کو یقینی بنانے حکمت عملی بنانے کے سلسلہ میںآج کے پی سی سی دفتر میں کانگریس لجس لیٹرس اور لیڈروں کااجلاس طلب کیا گیا تھا ۔ جس میں تبادلہ خیال کیا گیا ۔ کے پی سی سی صدر دنیش گنڈو راؤکی صدارت میں منعقدہ اس اجلاس میں بنگلور اسمبلی حلقوں کے اراکین اسمبلی اور لیڈروں نے شرکت کی ۔ انتخابات میں کانگریس امیدواروں کاہر ممکن تعاون کرنے کی کے پی سی سی صدر نے شرکاء سے درخواست کی ۔ اس اجلاس کی ابتداء میں بنگلور نارتھ حلقہ میں آنے والے اسمبلی حلقوں کے اراکین اسمبلی اور لیڈروں سے تبادلہ خیال کیا گیا ۔ آخری لمحات میں اس حلقہ سے کانگریس نے ریاستی وزیر کرشنا بائرے گوڈا کو امیدوار بنایا ہے ۔ دنیش گنڈو راؤ نے اس حلقہ میں پارٹی کے تمام لیڈروں اور ورکرس کو کرشنا بائرے گوڑا کے حق میں کام کرکے انہیں کامیاب بنانے کی اپیل کی ۔بنگلور نارتھ حلقہ کے لئے کرشنا بائرے گوڈا کو کانگریس امیدوار بنانے کا مشورہ جے ڈی ایس کے سربراہ ایچ ڈی دیوے گوڈا نے دیا تھا ۔ اس کے بعد کانگریس کے ریاستی قائدین نے مشورہ کرکے اس حلقہ سے کرشنا بائرے گوڈا کو میدان میں اتارا ہے ۔ اس حلقہ سے مرکزی وزیر ڈی وی سدانندا گوڈا بی جے پی کے امیدار ہیں ۔ اس حلقہ میں وکلیگا طبقہ کے ووٹروں کی کثیر آبادی ہے ۔ دونوں امیدوار کا تعلق بھی وکلیگا طبقہ سے ہے ۔ کہاجارہا ہے کہ پچھلے پانچ برسوں کے دوران سدانندا گوڈا نے اس حلقہ کے لوگوں سے قربت حاصل کرلی ہے۔کانگریس امیدوار کرشنا بائرے گوڈا اس حلقہ کی حدود میںآنے والے بیاٹرائن پورہ اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرنے میں اورکمار سوامی کی وزارت میں دو اہم قلمدان سنبھالتے ہیں۔ کانگریس نے کافی غور وفکر کے بعد کرشنا بائرے گوڈا کو اپناامیدوار بنایا ہے ۔کرشنا بائرے گوڈا کا بھی وکلیگا طبقہ میں کافی اثر و رسوخ ہے ۔ پچھلی کانگریس حکومت میں وزیر رہ چکے ہیں ۔ اس حلقہ میں دونوں یکساں مقبول بھی ہیں۔ اس طرح دو وکلیگا طبقہ کے امیدواروں کے درمیان راست مقابلہ ہے ۔ کون کس پر سبقت حاصل کرے گا یہ ابھی سے کہنا قبل از وقت ہوگا۔مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کرشنابائیرے گوڈا نے کہاکہ آخری لمحات میں کانگریس نے انہیں اس حلقہ سے امیدوار بنانے کا فیصلہ کیا ۔ کل اس حلقہ کے کانگریس اور جے ڈی ایس لیڈروں کاایک مشترکہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقت کم ہے اس لئے دونوں پارٹیوں کے لیڈروں کو اپنے اپنے حلقوں میں مخلوط امیدواروں کو کامیاب بنانے انتخابی مہم شروع کردینی چاہئے۔